Featured Post

Wake up Now ! جاگو ، جاگو ، جاگو

Wake up Pakistan ! Presently the Muslim societies are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, terrorism,...

Friday, March 30, 2012

Wakeup! Akhand Bharat, Unfolding

صرف اناؤنسمنٹ باقی ہے ...چوراہا … حسن نثار



اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے“
ان ”سیاسی چراغوں“ کو جلد از جلد بجھانے کی کوشش نہ کی گئی تو قوم کو پچھتانے کی مہلت بھی نصیب نہ ہو گی۔ یہ ملفوف وارننگ دیتے ہوئے میں علامہ عنایت اللہ مشرقی کی 1956 والی تقریر کا حوالہ دوں گا۔ لاہور میں اپنے تاریخی خطاب کے دوران علامہ نے کہا تھا،
”مسلمانو!
میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ ایک ایسا دور آنے والا ہے جو غالباً 1970ء کا دور ہو گا۔ اس دور میں میری آنکھیں دیکھ رہی ہیں کہ ہر طرف سے یورش کا اک طوفان اٹھ رہا ہو گا۔ ملک کے اندرونی حالات بڑے خراب ہوں گے، خون خرابے کا خدشہ ہو گا، نسلی اور صوبائی تعصب کو ہر جگہ ہوا دی جا رہی ہو گی۔ زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے ہوں گے۔ ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے پروگرام بن رہے ہوں گے، میں تمہیں متنبہ کرتا ہوں کہ اگر ملک کی قیادت مضبوط ہاتھوں میں نہ ہوئی تو جان لو کہ اس ملک کا بچنا محال ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے کٹ جائے یا اندرونی خلفشار سے فائدہ اٹھا کر کہیں انڈیا ملک کو ہڑپ نہ کر لے یا ہو سکتا ہے کہ غلط قسم کے لوگ برسراقتدار آ کر پاکستان کو ہندوستان کی غلامی میں دے دیں۔ میں تمہیں 1970ء کے لئے خبردار کرتا ہوں کہ اس وقت کے لئے ابھی سے تیاری شروع کر دو“
قارئین!
یہ تھی بنگلہ دیش کے قیام کی پیش گوئی لیکن نہ تب کسی نے درویش جینوئین کے کہے پر کان دھرے نہ آج کوئی اس درویش کی سنے گا جس نے مجھے خبردار کیا کہ اپنے ہم وطنوں کو خبردار کر دو کہ اگر آنے والے دنوں میں مین سٹریم سیاسی پارٹیوں سے نجات حاصل کرنے میں ناکام رہے تو خاکم بدہن، یہ ملک ”ایکسپلوڈ“ نہیں ”امپلوڈ“ کر جائے گا جیسے بھٹہ اندر ہی اندر بیٹھ جاتا ہے یا جیسے پانی کی جگہ گارا سا نکلنے لگے تو لوگ کہتے ہیں… بور بیٹھ گیا ہے“
مجھے ذاتی طور پر قطعاً کوئی شک نہیں کہ ملک کے خود غرض اور نیم خواندہ حکمران شعوری یا لاشعوری طور پر اس ملک کا بھٹہ بٹھانے میں مصروف ہیں اور اگر اگلے الیکشن (؟) کے بعد انہیں ایک ایک باری مزید مل گئی تو سمجھ لو کہ پھر اللہ ای اللہ۔ جذباتیت اور جہالت کے جو شہکار سرعام یہ جھوٹ بولتے ہیں کہ پاکستان ہمیشہ قائم رہنے کے لئے بنا ہے تو یہ لوگ کتنی ڈھٹائی سے بنگلہ دیش کو بھول جاتے ہیں حالانکہ جو اپنی تاریخ بھول جائیں، تاریخ بھی انہیں بھول جایا کرتی ہے سو سستے سفلے جذبات کو طاق میں رکھتے ہوئے حقیقت پسندی سے کام لیا جائے تو شاید کوئی بہتر اور محفوظ رستہ نکل آئے۔
میں اپنے قارئین سے پُر زور اپیل کرتا ہوں کہ رک رک کر ٹھہر ٹھہر کے علامہ عنایت اللہ مشرقی کی تقریر دوبارہ پڑھیں اور پھر اسے اس شہہ سرخی کے ساتھ ملا کر صورتحال پر غور کریں۔ پاکستان نے 5 ہزار میگا واٹ بجلی دینے کی بھارتی پیشکش قبول کر لی“ مجھے انڈیا سے بجلی ”امپورٹ“ کرنے پر قطعاً کوئی اعتراض نہیں کہ بجلی بچاری ہندو مسلمان یا سکھ نہیں بالکل سو فیصد سیکولر ہوتی ہے اور اگر کوئی ”عالم“ یا نظریہ پاکستان کا ہول سیلر بجلی کے مذہب پر بضد ہو تو پھر یوں سمجھو کہ بجلی ”عیسائی“ ہوتی ہے اور یوں ہر کارآمد شے ”مسیحی“ ہی نکلے گی لیکن میں مسلسل سوچ رہا ہوں کہ اگر چوہے جلانے کے لئے بجلی اور بھجیا پکانے کے لئے سبزی بھارت سے ہی منگانی تھی… کراچی سے لے کر خیبر پختونخوا تک ہم نے ایک دوسرے کی گردنیں ہی کاٹنی تھیں تو اتنی اتھل پتھل، فسادات، قتل و غارت، ہجرت، اجاڑوں اور پناہ گزینیوں کی کیا ضرورت تھی؟ جہاں 20 کروڑ مسلمان ہیں ہم بھی پڑے رہتے! فرمایا ”پاکستان اسلام کی تجربہ گاہ ہو گا“ … اچھا ہے، بہت اچھا ہے، ہر تجربہ چودہ اگست والے ملک میں چودہ طبق روشن کئے دے رہا ہے اور اب اپنے گھر روشن کرنے کے لئے بجلی بھی بھارت سے امپورٹ ہو گی یعنی ہماری زندگی کے لئے ”انرجی“ اور ”پاور“ اس ملک سے آئے گی جس سے علیحدگی کے وقت بڑھک ماری گئی تھی کہ ”مثالی اسلامی ریاست بنائیں گے“ تاجروں، صنعت کاروں، جاگیرداروں اور قبائلی سرداروں سے ملک چھڑا لو تو شاید اب بھی ایسا ہو سکے ورنہ جان لو کہ تاریخ اپنا فیصلہ محفوظ کر چکی… صرف اناؤنسمنٹ باقی ہے جسے نہ کوئی ”لیپ ٹاپ“ روک سکتا ہے نہ فرزانہ راجہ کا لولی پوپ المعروف بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کہ یہی تو فساد کی جڑیں ہیں!