Featured Post

Wake up Now ! جاگو ، جاگو ، جاگو

Wake up Pakistan ! Presently the Muslim societies are in a state of ideological confusion and flux. Materialism, terrorism,...

Saturday, March 24, 2012

مارچ کا مہینہ۔ ہماری تاریخ کا سنگ میل: Ideology of Pakistan & 23 March:

.

مارچ کا مہینہ۔ ہماری تاریخ کا سنگ میل... صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود
مارچ کا مہینہ ہماری قومی زندگی میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے ۔ یوں تو مارچ کے مہینے میں کئی اہم واقعات رونما ہوئے لیکن میری رائے میں جن تین اہم ترین واقعات نے مارچ کو ہماری تاریخ میں یادگار اور سنگ میل ماہ کی حیثیت دی وہ کہیں قرارداد لاہور جسے بعدازاں قرار داد پاکستان کہا گیا، قرارداد مقاصد جو 12مارچ 1949ء کو منظور ہوئی اور ہمارے 1956ء اور 1973ء کے وساتیر کا حصہ بنی اور تیسرا اہم ترین واقعہ یا کارنامہ 1956ء کے آئین کی منظوری تھی جسے 23مارچ 1956ء سے نافذ کیا گیا ۔ ان تینوں کارناموں نے ہماری تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کئے اور قومی زندگی کے دھارے کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار سرانجام دیا ۔
عام طور پر قرارداد پاکستان کو 23مارچ سے منسوب کیا جاتا ہے لیکن میں روزنامہ جنگ میں 1987ء 89ء اور 1988ء میں چھپنے والے مضامین میں کئی بار وضاحت کر چکا ہوں کہ قرارداد پاکستان اگرچہ 23مارچ کو مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ لاہور میں پیش کی گئی لیکن اسے منظوری 24مارچ کو ملی۔ اگر مسلم لیگ کے لیڈران اور قائد اعظم  چاہتے تو 24مارچ کو قرار داد پاکستان کا دن قرار دے دیتے لیکن یہ انہی کا فیصلہ تھا کہ اسے 23مارچ سے منسوب کیا جائے۔پاکستان پندرہ اگست 1947ء کو وجود میں آیا لیکن ہماری قیادت کا فیصلہ تھا کہ یوم آزادی 14/اگست کو منایا جائے ۔ظاہر ہے کہ قرار داد لاہور قائد اعظم  اور مسلم لیگ کی اعلیٰ ترین قیادت کی نگرانی میں ڈرافٹ ہوئی ،تشکیل پائی اور انہی کی نگرانی میں مسلم لیگ کے اجلاس میں شیر بنگال مولوی فضل الحق نے پیش کی اور انہی کے سامنے 24مارچ کو منظور ہوئی اس لئے اس فیصلے کا اختیار بھی انہی کے پاس تھا کہ اسے پیش ہونے والے دن یا منظور ہونے والے دن سے منسوب کریں ۔ ظاہر ہے کہ اتنی ذہین، بصیرت مند اور تجربہ کار قیادت کے پیش نظر کچھ وجوہ ہوں گی جن کی بنیاد پر قرار داد لاہور کے لئے 23مارچ کا دن مخصوص کیا گیا ۔ آپ کو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ خود مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے 22فروری 1941ء کو یہ فیصلہ کیا تھا کہ اس قرارداد کو جسے قرارداد پاکستان کے نام سے پکارا جاتا ہے ہر سال 23مارچ کو منایا جائے گا اور اس روز اس قرارداد کی وضاحت اور تشہیر کی جائے گی۔ اسی سال جب مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس 12-15/اپریل 1941ء مدراس میں منعقد ہوا تو قرار داد لاہور کو ایک ریزولیشن کے ذریعے مسلم لیگ کے مقاصد کا حصہ بنا لیا گیا ( فاؤنڈیشن آف پاکستان شریف الدین پیر زادہ ۔جلد دوم صفحہ 371-72)اسی اجلاس میں 14/اپریل کو اپنے صدارتی خطبے میں قائد اعظم نے بار بار زور دیا کہ وہ پاکستان حاصل کئے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ اور یہ کہ قرارداد پاکستان لینڈ مارک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”پاکستان ہمارے لئے زندگی موت کا مسئلہ ہے (ص 388) اسے برطانوی حکومت کو تسلیم کر لینا چاہئے ۔ ہم کسی قیمت پر بھی فلسطین کی تاریخ کو دہرانے کی اجازت نہیں دیں گے “ ۔لطف کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں دانشوروں کا ایک گروہ مسلسل پراپیگنڈہ کر رہا ہے کہ قائد اعظم نے کبھی اپنی تقریروں میں آئیڈیالوجی کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ اس جھوٹ کو رد کرنے کے لئے صرف اس اجلاس میں قائد اعظم کا صدارتی خطبہ پڑھ لیں جس میں انہوں نے صرف ایک پیرا گراف میں مسلم لیگ کی آئیڈیالوجی اور آئیڈیالوجی برائے آزاد مملکت کے الفاظ دو بار استعمال کئے ۔ یہ کہنا کہ نظریہ پاکستان کی اصطلاح قیام پاکستان کے بعد کی ایجاد ہے تاریخ کو مسخ کرنے اور اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے مترادف ہے ۔ اس کے بعد قیام پاکستان تک قائد اعظم آئیڈیالوجی آف پاکستان یا مسلم قومیت کے تصور کا ذکر بار بار کرتے رہے ۔
قیام پاکستان کے بعد قرار داد پاکستان خاص بحث اور اختلاف کا موضوع رہی ہے اور جی ایم سید کی جئے سندھ سے لیکر شیخ مجیب الرحمن، مولوی فضل الحق اور مولانا بھاشانی اور کبھی کبھی پختونستان کا نعرہ بلند کرنے والے عام طور پر اسی قرار داد کا سہارا لیتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک اس قرار داد کے مطابق صوبوں کو آزاد مملکتیں ہونا تھا جبکہ ان کے مخالفین کا موقف تھا کہ 1945-46ء کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ کے منتخب اراکین اسمبلیاں نے 1946ء کے دہلی کنونشن میں آزاد مملکتوں (STATES) کو دفن کر دیا تھا اور مشرقی و مغربی پاکستان پر مشتمل ایک ریاست کا مطالبہ کیا تھا ۔ بلاشبہ اگر قرارداد لاہور کے متن کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں آزاد ریاستوں کاتصور ملتا ہے اور اگر اسے بنظر غائر پڑھا جائے تو مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل دو آزاد ریاستوں کا تصور ابھرتا ہے یعنی بنگال اور وہ صوبے جو مغربی پاکستان کا حصہ بنے، ان دونوں یونٹوں کو مقتدر (SOVEREIGN)اور آزاد ہونا تھا اور صوبوں کو اٹانومی حاصل ہونا تھی لیکن جہاں تک قائد اعظم کا تعلق ہے وہ واضح طور پر قرار داد لاہور کو ایک ریاست کا مطالبہ اور منشور سمجھتے تھے ۔ لگتا ہے جب مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی نے کئی ڈرافٹوں یعنی مسودوں کو ایک قرار داد میں یکجا کرنے کی کوششیں کی تو اس میں کنفیوژن پیدا ہوا ۔ آج ہم ریاست (STATE)کو مکمل طور پر آزاد ملک سمجھتے ہیں لیکن اس دور میں یہ لفظ خودمختار صوبوں کے لئے بھی استعمال ہوتا تھا۔ مسلم لیگ کے ممتاز لیڈر حسین امام کے بقول کہ اس وقت کی مسلم لیگی قیادت ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے دستور سے متاثر تھی جس میں ریاستوں کو داخلی معاملات میں مکمل آزادی حاصل ہے۔ لیکن امریکہ کی پچاس ریاستیں فیڈریشن کی لڑی میں پروئی ہوئی ہیں ۔ شیر بنگال ورکنگ کمیٹی کے اس اجلاس میں شامل نہیں تھے جس نے یہ قرار داد ڈرافٹ کی لیکن وہ دوسرے دن سیدھے مسلم لیگ کے اجلاس میں پہنچے اور قرار داد پیش کرنے کا تاریخی اعزاز حاصل کیا۔ ان کے متعدد بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ فضل الحق کے ذہن میں اس قرار داد کا مطلب دو آزاد ریاستیں تھیں لیکن قائد اعظم نے اسی دن اخباری رپورٹروں سے گفتگو میں یہ بیان دے کر قرار داد کے مقدر کا فیصلہ کر دیا کہ ہم صرف ایک ملک کا مطالبہ کر رہے ہیں ( بحوالہ جناح آف پاکستان ازسٹینلے والپرٹ صفحہ نمبر 185)مارچ کے حوالے سے دوسرا اہم واقعہ قرارداد مقاصد کی منظور تھی جسے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے 12مارچ 1949ء کو منظور کیا اسی پس منظر میں اسے دستور کی بنیاد قرار دیا جاتا ہے ۔ اسمبلی میں چند ایک غیر مسلم نمائندوں نے اس قرار داد پر کڑی تنقید کی انہیں اعتراض اس بات پر تھا کہ اس قرار داد میں اقتدار اعلیٰ کو اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قرار دیا گیا ہے جس کا سادہ سا مفہوم یہ ہے کہ پاکستان میں قرآن و سنت کے خلاف قانون نہیں بن سکے گا۔ عام طور پر مغربی جمہوریتوں میں جنہیں ہم سیکولر جمہورتیں کہتے ہیں عوام کو ”اقتدار اعلیٰ“ قرار دیا جاتا ہے اور اس حوالے سے ان کے منتخب کردہ نمائندوں کو ہر قسم کا قانون بنانے کی مکمل آزاد ی ہوتی ہے ۔ اسی آزادی کا سہارا لیکر بعض ممالک میں ہم جنس پرستی پر بھی قانونی مہر لگا دی گئی ہے ۔ظاہر ہے کہ اسلام کی بنیاد پر بننے والے مسلمان اکثریتی ملک میں پارلیمینٹ کو مادر پدر آزادی نہیں دی جا سکتی ۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ قیام پاکستان سے قبل جب قائد اعظم پیر آف مانکی شریف سے ملنے صوبہ سرحد گئے تو پیر صاحب کے سوال کے جواب میں قائد اعظم نے زور دے کر کہا کہ پاکستان میں کبھی بھی قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی نہیں ہو سکے گی ۔قیام پاکستان سے قبل قائد اعظم نے لاتعداد بار وضاحت کی کہ ہمارا آئین قرآن ہے اور پاکستان کے آئین کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی ۔ آج اگر آپ ان حضرات کے بیانات پڑھیں جو قرار داد مقاصد کی مخالفت میں ہلکان ہو رہے ہیں تو آپ کو ان میں وہی دلائل نظر آئیں گے جو دستور ساز اسمبلی میں غیر مسلم اراکین نے دیئے تھے ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ یہ روشن خیال دانشور دعویٰ کرتے ہیں کہ اس وقت کی کابینہ کے رکن جو گندر ناتھ منڈل قرارداد منظور ہوتے ہی ہندوستان بھاگ گئے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قرار داد مقاصد 12مارچ 1949ء کو منظور ہوئی اور جوگندر ناتھ منڈل نے 16ستمبر 1950ء کے دن ہندوستان ہجرت کی یعنی وہ قرار داد کے منظور ہونے کے ڈیڑھ برس بعد تک کابینہ کے رکن رہے ۔
مارچ کو تیسرا اعزازیہ حاصل ہے کہ ہمارا پہلا دستور 23مارچ 1956ء کو نافذ کیا گیا ۔ اگرچہ دستور سازی میں تقریباً 9برس ضائع کر دینا ناقابل معافی جرم تھا لیکن بہرحال یہ ایک بہت بڑا کارنامہ تھا جس میں متحدہ، جمہوری اور اسلامی پاکستان کی ضمانت موجود تھی ۔ اس دستور میں پاکستان کو اسلامی جمہوریہ قرار داد دیا گیا تھا اور اسے مشرقی و مغربی پاکستان کے منتخب اراکین نے منظور کیا تھا ۔ میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ اگر اکتوبر 1958ء میں سکندر مرزا اور ایوب خان مارشل لاء لگا کر اس دستور کو منسوخ نہ کرتے اور عام انتخابات ہو جاتے تو مشرقی پاکستان کبھی بھی علیحدگی کی راہ پر نہ چلتا۔ اس مارشل لاء نے دونوں صوبوں کی منظوری سے بننے والے آئین کو منسوخ کرکے وہ بنیاد ہی ختم کر دی جس پر پاکستان کھڑا تھا۔ باقی انشاء اللہ پھر کبھی ۔